ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اڈپی : ہندوستان کو اسلامی ملک بنانے کے لئے مسلم ممالک نے گٹھ جوڑ کیا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف ایچ جے وی  لیڈر جگدیش کارنتھ کی زہر افشانیاں

اڈپی : ہندوستان کو اسلامی ملک بنانے کے لئے مسلم ممالک نے گٹھ جوڑ کیا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف ایچ جے وی  لیڈر جگدیش کارنتھ کی زہر افشانیاں

Sat, 16 Oct 2021 12:29:05    S.O. News Service

اڈپی، 16؍ اکتوبر (ایس او نیوز) ہندو جاگرن ویدیکے کے ساوتھ زون آرگنائزنگ سیکریٹری اور مسلم مخالف اشتعال انگیز بیانات کے لئے معروف لیڈر جگدیش کارنتھ  نے دسہرہ کے اختتامی مرحلہ 'وجیا دشمی' کےموقع پر منعقدہ 'دُرگا دوڑ' نامی پروگرام میں بولتے ہوئے کہا : "جہاد ایک مذہبی جنگ ہے جو ہندوستان کو اسلامی ملک میں تبدیل کرنے کے لئے کی جارہی ہے ۔ دنیا کے تمام مسلم ممالک اس میں ملوث ہیں ۔"

ہندووں کے اس بہت بڑے اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے جگدیش کارنتھ نے کہا :" آئی ایس آئی ایس  طالبان کی ایک ساتھی تنظیم ہے ۔ اس علاقے سے اُس تنظیم کے لئے افراد کو بھرتی کرنے کا کام جاری ہے ۔ ہندووں کو اس قسم کی سرگرمیوں پر قابو پانا ہوگا ۔ منگلورو میں سی اے اے مخالف فساد منصوبہ بندی سے کیا گیا تھا ۔ سی اے اے قانون افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کی اقلیتوں کو شہریت دینے کا ذریعہ ہے ۔ منگلورو کے مسلمانوں کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ پھر بھی انہوں نے آٹو رکشہ، ٹیمپو اور مال بردار گاڑیوں میں پتھر پہنچائے اور پولیس افسران پر سنگ باری کی ۔ انہوں نے اسے 'پتھر پھینکو تحریک' کا نام دیا ۔ ہزاروں مسلمان منگلورو میں حملہ آور ہوئے ۔ اگر پولیس کمشنر پی ایس ہرشا نے 'دیکھتے ہی گولی مارنے' کا حکم نہیں دیا ہوتا تو تم لوگ سمجھ سکتے ہو کہ اس کے بعد کیا حالت ہوگئی ہوتی ۔"

جگدیش نے کہا کہ : " ساحلی علاقے پر بری نظر رکھنے والوں کے لئے 'دُرگا دوڑ' ہمارے اتحاد کی علامت ہے ۔ ڈی جے ہلّی ، کے جی ہلّی بنگلورو میں بلاوجہ فساد بھڑکایا گیا تھا ۔ ان دو پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں انہوں (مسلمانوں) نے ہندووں کے گھروں کی تلاشیاں لیں اور انہیں جلا ڈالا ۔ کابکا میں 15 اگست کے دن حکومت کے آزادی رتھ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں ۔ انہوں (مسلمانوں) نے مجاہدین کی فہرست سے ساورکر کی تصویرکو ہٹا کر ٹیپو سلطان کی تصویر بدلنے  کا مطالبہ کیا ۔ 26 جنوری کے موقع پر دہلی میں  کسانوں کے نام پر طالبانیوں نے  افراتفری مچائی ۔ 

کارنتھ نے کہا:"یہ حادثاتی واقعات نہیں ہیں ۔ یہ عالمی اسلامائزیشن کا حصہ ہے۔   ان کا مقصد ہندوستان کو اسلامی ملک بنانا ہے ۔ دس سال قبل ہی کیرالہ کی ساحلی پٹی کو اسلامائز کیا جا چکا ہے ۔ اب جہاد جنوبی کینرا میں داخل ہو چکا ہے ۔ الال میں 'لینڈ جہاد' موجود ہے ۔ ہندو جاگرن ویدیکے کی موجودگی میں گئو کشی اور 'لو جہاد' چل نہیں سکتے ۔ اگر وہ لوگ ہماری قوم کی مچھلی فروش خواتین سے مچھلیاں خریدنا بند کرتے ہیں تو ہم لوگ بھی ان کی دکانوں سے چپل جوتے خریدنا، ان کے ہوٹلوں میں کھانا پینا اور ان کے ساتھ تجارت کرنا بند کر سکتے ہیں ۔  ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے ۔ لیکن کوئی تکلیف دیتا ہے تو پھر ہم برداشت بھی نہیں کریں گے ۔"

موصولہ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس عام سے پہلے کڈیالی مندر سے امبلپاڈی بائی پاس تک زبردست ریلی نکالی گئی جس میں ضلع بھر سے ایچ جے وی کے ہزاروں اراکین نے حصہ لیا ۔ 


Share: